0


اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکان جاناں
یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیمان جاناں
یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انسان جاناں
زندگی تیری عطا تھی سو تیرے نام کی ہے
ہم نے جیسے بھی بسر کی تیرا احسان جاناں
مدتوں یہی عالم،نہ توقع نہ امید
دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں
ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا
غمِ دوراں سے جدا ہے غمِ جاناں،جاناں
اب تیرا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے
اور سے اور ہوئے ہیں درد کے عنوان جاناں

Post a Comment Blogger

 
Top