کسے معلوم کس کا نام کس کے نام تک پہنچے
تیری آنکھوں کے ٹھکرائے ہوئے وہ لوگ تھے شاید
جو اک شرمندگی ہونٹوں پہ لیکر جام تک پہنچے
سبھی رستوں پہ تھے شعلہ فشاں حالات کے سُورج
بہت مشکل سے ہم اُن گیسؤوں کی شام تک پہنچے
کسی نے بھی نہ اپنی دھڑکنوں میں دی جگہ جن کو
وہ سارے ولولے میرے دل ناکام تک پہنچے
سجا کر آئے جب سونے کا چشمہ اپنی آنکھوں پر
نظر ہم مفلسوں کی تب کہاں اُس بام تک پہنچے
قتیل آئینہ بن جاؤ زمانے میں محبت کا
...اگر تم چاہتے ہو شاعری الھام تک پہنچے

Post a Comment Blogger Facebook